ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شیموگہ میں بجرنگ دل لیڈر پر  حملہ  سے فرقہ وارانہ کشیدگی ؛ حالات زیرقابو، مگر دفعہ 144 کا اعلان

شیموگہ میں بجرنگ دل لیڈر پر  حملہ  سے فرقہ وارانہ کشیدگی ؛ حالات زیرقابو، مگر دفعہ 144 کا اعلان

Thu, 03 Dec 2020 20:00:53    S.O. News Service

شیموگہ3؍  دسمبر (ایس او  نیوز )  شہر کے بی ایچ روڈ پردیپک پٹرول بنک کے پاس کچھ شر پسندوں نے  بجرنگ دل سے وابستہ گؤرکھشا لیڈر ناگیش (۲۸ سال)  پر  حملہ کیا اور موقع پر سے فرار ہو گئے۔ جس کے بعد علاقے میں زبردست فرقہ وارانہ کشید گی پھیل گئی ہے ، ویسے تو شموگہ میں حالات زیرقابو ہیں مگر حفاظتی انتظامات کے تحت دفعہ ۱۴۴ نافذکیا گیا ہے۔

 بتایا جاتا ہے  کہ بجرنگ دل کے سابق   صدر ناگیش   پر چار شر پسندوں نے  حملہ اس وقت کیا جب ناگیش  نہرو اسٹیڈیم کی طرف جا رہا تھا  ۔ اس حملے میں ناگیش کے سر ،ناک  اور منھ پر گہرے زخم آئے ہیں  اور اسے علاج کے لیے میٹرو ہاسپٹل میں  داخل کیا گیاہے۔

ذرائع کے مطابق چار بائک پر سوار چار نوجوانوں نے جن کا تعلق اقلیتی فرقہ سے بتایا جارہا ہے، ناگیش پر حملہ کیااور موقع پر سے فرار ہوگئے۔ واردات کے فوری بعد  شموگہ کے اقلیتی  علاقہ والے چور بازار پہنچ کر   شرپسندوں کے ایک گروپ نے  تین تاجروں پر حملہ کیا ۔جس کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے۔ بجرنگ دل لیڈر پر حملہ کے بعد شہر کے بعض علاقوں میں  کچھ شرپسندوں نے پارک کئے ہوئے آٹو رکشہ  کو بھی نقصان پہنچانے کی اطلاعات ہیں۔

حالات کی سنگینی کو دیکھتےہوئے   لوگوں نے فوری طور پر  اپنی اپنی  دکانیں بند کردی ،جبکہ حالات کو پرامن بنائے رکھنے کے لئے  انتظامیہ نے پولس کی چوکسی بڑھادی۔ ایس پی شانتاراجو اور ایڈیشنل ایس پی شیکھر نائیک نے جائے وقوع پر پہنچ کر حالات کاجائزہ لیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ شہر میں امن و امان بنائے رکھیں۔ اس دوران کشیدگی کو دیکھتےہوئے حفاظتی اقدامات کے طور پر  تحصیلدار ناگراج نے امتناعی احکامات کے تحت دفعہ ۱۴۴ نافذ کرنےکا اعلان کیا ہے۔

 بتایا جاتا ہے کہ اس سے پہلے سوشیل میڈیا کے ذریعے بجرنگ دل لیڈر نا گیش کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی تھیں ۔  اور آج عملی طور پر یہ واردات انجام دی گئی ہے ۔فی الحال نا گیش کی حالت خطرے سے باہر بتا ئی جاتی ہے ۔

ایڈیشنل ایس پی شیکھر نائک نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ حالات زیر قابو ہیں اور فی الحال کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔


Share: